بنگلورو،21؍دسمبر(ایس او نیوز) سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر سدارامیا نے ریاستی حکومت کی طرف سے یکم جنوری سے اسکو ل کھول دینے کے فیصلہ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ نجی تعلیمی اداروں کے دباؤ میں آکرکیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ 9ماہ سے طلباء کو تعلیم سے آراستہ کروانے کی ذمہ داری سے غافل نجی اداروں کو صرف ان طلباء کے والدین سے فیس کی رقم اینٹھنے کی فکر ہے۔ ان بچوں کی حفاظت کے بارے میں کوئی اسکول سنجیدہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ نجی اسکولوں کی طرف سے جن آن لائن کلاسس کا اہتمام کیا گیا ان سے غریب طلباء کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ آن لائن کلاسوں کے سلسلہ میں تسلسل نہ ہونے کے باوجود اسکولوں نے فیس کی بھاری رقم بٹورلی ہے۔ رواں سال اسکولوں کی کسی سہولت کا بچوں نے استعمال نہیں کیا اس کے باوجود ان سے لائبریری، لیباریٹری فیس اور دیگرقسم کے فیس وصول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کو روکنے کی بجائے حکومت تماشائی بنی ہوئی ہے۔
سدارامیا نے کہا کہ حکومت کی خاموشی دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ وہ نجی اسکولوں کے ساتھ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی اسکولوں پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ ان اسکولوں کی اس بات کے لئے کوئی بازپرس نہیں کی جا رہی ہے کہ کلاسوں کا اہتمام کئے بغیر وہ والدین سے پوری فیس وصول کر رہے ہیں۔اب جبکہ حکومت کی طرف سے باضابطہ کلاسوں کی شروعات کا اعلان کردیا گیا ہے ان اداروں نے فیس وصول کرنے کے لئے والدین کو بلیک میل کرنے کے مقصد سے آن لائن کلاسس کا سلسلہ روک کر احتجاج شروع کیا ہے۔ لیکن حکومت ان اسکولوں کے رویے پر خاموش بیٹھی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کے تعلیمی شعبہ کو جس بحران کا سامنا ہے اس کے لئے وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا اور وزیر تعلیم سریش کمار ذمہ دارہیں۔ اسکولوں کے انتظامیہ اور والدین کے درمیان ٹکراؤ کو ہوا دے کر حکومت اپنی کوتاہیوں سے دامن جھاڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت کی ناکامی کی وجہ سے ایک طرف طلباء کا مستقبل خطرے میں ہے اور والدین اور اسکولوں کے مالکان ایک دوسرے کے خلاف سڑکوں پر اترآئے ہیں۔ حکومت سے انہوں نے مطالبہ کیا کہ وہ اس بحران کو سلجھانے کے لئے فوری طور پر مداخلت کرے۔